وحشتیں ہیں اداسیاں اور دل

وحشتیں ہیں اداسیاں اور دل
مستقل بدحواسیاں اور دل
ہم نے سب کچھ ترے حوالے کیا
درد کی دیو داسیاں اور دل
ایک مدت سے تیری آس میں ہیں
میری نظریں پیاسیاں اور دل
ہو کے اشکوں کے رہ گئے ہیں ہم
ہائے یہ غم شناسیاں اور دل
ہم بہت ہی امیر ہیں فرحت
ان گنت ہیں اداسیاں اور دل
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – دوم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *