وصل کی رات ہے ڈھلنے والی

وصل کی رات ہے ڈھلنے والی
یہ قیامت نہیں ٹلنے والی
کیا خبر کونسا موسم ہے یہاں
کون سی رت ہے بدلنے والی
اس کی آنکھوں سے لگا ہے مجھ کو
ہے کوئی برف پگھلنے والی
دور سے شعلے نظر آئیں گے
ہجر کی آگ ہے جلنے والی
اک مرا نام اگلتی جائے
یہ زمیں درد اگلنے والی
کب یہ دل ماننے والا ہے سکوں
کب طبیعت ہے سنبھلنے والی
ایک خواہش ہے مرے سینے میں
دشت کی سمت نکلنے والی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اک بار کہو تم میرے ہو)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *