وہ بولی پھول پر شبنم نہیں، ہیں خون کے قطرے

وہ بولی پھول پر شبنم نہیں، ہیں خون کے قطرے
ہوا میں جسم جلنے کی ہلاکت خیز بدبو ہے
سڑک پر حادثوں کا رقص بھی ہے دیر سے جاری
گھروں میں بھی نہیں محفوظ دولت، جان اور عزت
میں بولا اب تو جعلی بادشہ بھی یار کے ہاتھوں
بھرے دربار میں ذلت سے ہے تختہ کیا جاتا
وہ بولی کیا ہماری فوج خود ہم کو ہی مارے گی
میں بولا ہاں مگر فوجی نہیں، جرنیل ماریں گے
ہماری فوج تو معصوم ہے جرنیل شاطر ہیں
ہماری فوج تو مظلوم ہے جرنیل ظالم ہیں
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *