وہ رویا کرتا اور محبت ہنسا کرتی

وہ رویا کرتا اور محبت ہنسا کرتی
بچے کے آنسو اتنے رخساروں پر نہیں گرتے
جتنے دل پر گرتےہیں
معصوم، کمزور اور دکھے ہوئے دل پر
پتھر اور انگارے بن بن کے
میں نے اس بچے کے ساتھ بچپن گزارا ہے
جسے خود اس کی اپنی آواز کوسوں دور سنائی دیا کرتی تھی
وہ ایک مغرور خاموشی کی گود میں پلا
وہ رویا کرتا اور محبت ہنسا کرتی
وہ ہنستا، تو تقدیر کانپ جاتی
اس کے پاس بہت سارے کھلونے ہوتے
اور اس کا دل نہ لگتا
وہ جسے ڈھونڈتا
اسے کہیں بھی نہ ملتا
اور وہ ڈھونڈتا رہتا
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *