میں کہتا ہوں کہ وارث کے لئے یہ فرض ہوتا ہے
وہ کہتی ہے کہ تم کم گو بہت ہو عشق کے بارے
میں کہتا ہوں عمل اور بات کے معنی سمجھتا ہوں
وہ کہتی ہے تمہاری شخصیت میں بے قراری ہے
میں کہتا ہوں کہ میں اس راستے کا راہ رو جو ہوں
وہ مجھ سے پوچھتی ہے پیار کو تم کیا سمجھتے ہو
میں کہتا ہوں نفی اپنی مگر اثبات دوجے کا
وہ کہتی ہے تری باتوں سے بے زاری جھلکتی ہے
میں کہتا ہوں کہ یہ خاموش رہنے کا سمے جو ہے
فرحت عباس شاہ