وہ کہتی ہے کہ جیون میں کسی نے زہر گھولا ہے

وہ کہتی ہے کہ جیون میں کسی نے زہر گھولا ہے
میں کہتا ہوں کہ ہم کچھ نفرتیں جو پال لیتے ہیں
وہ بولی نفرتوں کا بھی کوئی باعث تو ہوتا ہے
میں بولا دل میں ایسے چور دروازے ہی کیا رکھنے
وہ بولی زہر کی برسات جب جیون جلاتی ہے
میں بولا زہر برسے بھی تو اندر سے برستا ہے
وہ بولی آئینوں میں جو دراڑیں پڑ گئیں اب تک
میں بولا پھر تو بہتر ہے کہ آئینہ بدل ڈالو
وہ بولی میں بہت بیمار ہوں دنیا کی باتوں سے
میں بولا تم نے دنیا کو سماعت سونپ رکھی ہے
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *