چلا آیا بوسہِ ہجر خاک لپیٹ کر
وہاں مندروں میں جگہ نہ تھی
وہاں پوجا پاٹ کٹا پھٹا ہوا دل لیے
تھی کسی گمان کی منتظر
وہاں بے دیار پجاریوں کے گناہگار بدن خداؤں کی ہار تھی
وہاں آدھی آدھی جلائی جاتی تھی روشنی
میں نے خواب خواب میں سر جھکایا تو جالگا کسی اینٹ سے
جہاں ماتھا رکھنا تھا عجز کا وہاں خون تھا
کسی بھوکے شخص کا خون، جس کی دعا کے پیٹ میں بھی خلا ہو نصیب کا
وہاں مندروں میں وصال و ہجر کے میتوں پہ نہ رونے والا تھا
کوئی بالوں کو کھول کر، نہ کوئی اداس، ملول تھا
وہاں اک خدا کے نہ ہاتھ پاؤں تھے ساتھ اس کے وجود کے
نہ جلال تھا کسی کانی آنکھ کے حوض میں
وہاں دوسرے کے نہ سر تھا ساتھ بدن کے اور نہ لباس تھا
وہاں اتنے جبر میں تھے خدا کہ نہ پوچھیے
وہاں بھوک تھی، وہاں جنس تھی وہاں خوف تھا
وہاں لب دھرے تھے کسی بھکاری کی زنگ خوردہ پلیٹ پر
وہاں مندروں میں جگہ نہ تھی
چلا آیا بوسہِ ہجر خاک لپیٹ کر
فرحت عباس شاہ