مدت سے چلے آتے ہیں ہم لوگ مسافر
اک رستہ ہے اس رستے پہ اک بھیڑ لگی ہے
اک دل ہے اور اس دل میں ہیں سو روگ مسافر
بے چینی میں انصاف بھی ممکن نہیں ہوتا
کرتے ہیں کوئی اور تو ہوتا ہے کوئی اور
وہ شخص ہمیں اپنے تئیں سوچ سمجھ کے
آثار قدیمہ کی طرح چھوڑ گیا ہے
دکھ سکھ کی ریاضت بھی مرے کام نہ آئی
جس شام کی خواہش تھی وہی شام نہ آئی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – بارشوں کے موسم میں)