ہم نے ترے خیال سے گھر کو سجا لیا
ہوتی گئیں اکٹھی مرے دل کے آس پاس
تنہائیوں نے شہر میں اک گھر بنا لیا
یہ بھی تو دشمنی کی ادا ہے مرے یہاں
اپنا ہی تیر اپنے لہو میں بجھا لیا
سو سو طرح کے رنج و الم حزن و اضطراب
چل اٹھ کہ اس نگر سے بہت کچھ کما لیا
جیون کے نظم و ضبط نے تنہا کیا مگر
آوارگی نے لوٹ کے سینے لگا لیا
اک تیری ہمرہی کے لیے رہ میں بار بار
ہم نے خوشی کے ہاتھ سے دامن چھڑا لیا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ہم جیسے آوارہ دل)