ہے مشکل اور محال عجب
تری خاطر پھر پھر آوارہ
مرے گزرے سترہ سال عجب
مرا سینہ ترسے بارش کو
مری آنکھیں مال و مال عجب
دنیا والوں کو لگتے ہیں
مری سوچیں، خواب، خیال عجب
تیری تو پرانی عادت ہے
کر دینا کوئی سوال عجب
مجھے حیرت ہے اس عشق میں آ
مرے دل نے کیا کمال عجب
جب خواب خیال کی بستی میں
ترا میرا ہوا وصال عجب
فرحت عباس شاہ
(کتاب – دو بول محبت کے)