کبھی تو ہاتھ میں آتے ہمارے
ہمارے حال پر ہنستی ہے دنیا
اور اس دنیا پہ روتے ہیں ستارے
بھلا ہم چور تھوڑی ہیں کسی کے
کوئی تو ہم کو بھی کھل کر پکارے
تمہاری یاد کی رتھ سے محبت
مرے اشکوں کو بادل پر اتارے
امڈ آیا ہے طوفاں بادلوں کا
بہت گھبرا رہے ہیں غم کے مارے
کبھی اک آہ اٹھتی ہے یہاں سے
ابھی باقی ہیں سینے میں شرارے
جو دریاؤں پہ بھی قادر ہے یارو
بدل دیتا ہے اک لمحے میں دھارے
تمہاری یاد، بے چینی، اداسی
یہی ہیں آخری دل کے سہارے
کوئی بھی شے نہیں ہوتی اچانک
کہ یہ کرتی ہے چھپ چھپ کر اشارے
گلی جو آزمائش کی ہے، مولا
کبھی تم کو نہ اس میں سے گزارے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – دو بول محبت کے)