یہی اضطراب ہوتا یہی انتظار ہوتا

یہی اضطراب ہوتا یہی انتظار ہوتا
یہی عمر پھر سے جیتے اگر اعتبار ہوتا
ترے وصل پر کبھی جو مرا اختیار ہوتا
یہی روز روز ہوتا یہی بار بار ہوتا
وہ تو شہر ہی تھا ایسا، ہوئے برف بار ورنہ
دلِ پائمال اب بھی سرِ شعلہ زار ہوتا
مجھے کچھ بھی تو نہ ہوتا کبھی باعثِ ندامت
سبھی آسمان تکتے، میں ترے نثار ہوتا
مری نیم جاں انا تھی مری کج ادا کے پیچھے
تجھے بھول کیوں نہ جاتے اگر اختیار ہوتا
کبھی رائیگاں نہ جاتی شبِ وصل اس طرح جو
مجھے اختیار ہوتا، تجھے اعتبار ہوتا
کوئی کائنات ہوتی مری قدرت بیاں میں
میں تری زبان ہوتا میں تری پکار ہوتا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – سوال درد کا ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *