یہی نہیں ہے کہ آنسو سمیٹ لایا ہوں

یہی نہیں ہے کہ آنسو سمیٹ لایا ہوں
میں اس کی آنکھ کی خوشبو سمیٹ لایا ہوں
شبِ فراق کی آواز بھی تھی لیکن میں
شبِ فراق کے گیسو سمیٹ لایا ہوں
ترے وصال کی بستی کے کونے کونے سے
ترے خیال کے جگنو سمیٹ لایا ہوں
اسی لیے تو زمانہ اسیر ہے میرا
کسی کے پیار کا جادو سمیٹ لایا ہوں
وہاں کٹے ہوئے سر بھی پڑے تھے لوگوں کے
مگر میں ڈھونڈ کے بازو سمیٹ لایا ہوں
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *