وضعِ نیرنگئ آفاق نے مارا ہم کو
ہوگئے سب ستم و جَور گوارا ہم کو
دشتِ وحشت میں نہ پایا کسی صورت سے سراغ
گردِ جولانِ جنوں تک نے پکارا ہم کو
عجز ہی اصل میں تھا حاملِ صد رنگِ عروج
ذوقِ پستئ مصیبت نے ابھارا ہم کو
ضعف مشغول ہے بیکار بہ سعئ بیجا
کرچکا جوشِ جنوں اب تو اشاره ہم کو
صورِ محشر کی صدا میں ہے افسونِ امّید
خواہشِ زیست ہوئ آج دوبارا ہم کو
تختۂ گور سفینے کے مماثل ہے اسدؔ
بحرِ غم کا نظر آتا ہے کنارا ہم کو